ایمان فاطمہ پاور ہٹنگ سے میچ جتوانے کے لیے پرعزم

کراچی (سپورٹس لیکس)دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والی اوپنر ایمان فاطمہ ایمرجنگ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں اپنی پاور ہٹنگ کے سلسلے میں بہت زیادہ پرامید دکھائی دیتی ہیں۔
یہ ٹورنامنٹ بارہ جون سے ہانگ کانگ میں شروع ہونے والا ہے اور ایمان فاطمہ کا کہناے کہ وہ ایسی کارکردگی دکھانا چاہتی ہیں جو پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنارکرسکے۔ پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان فاطمہ کہتی ہیں″ میں جب بھی پریکٹس کرتی ہوں پاور ہٹنگ کی پریکٹس کو اہمیت دیتی ہوں کیونکہ مجھے ہمیشہ سے جارحانہ بیٹنگ کا شوق رہا ہے اور میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو میں نے پریکٹس کی ہے. اسے میچ میں بھی کام میں لاؤں۔میں نے کوشش کی ہے کہ میں میچوں میں بھی اپنےشاٹس کھیلوں ۔ میں اس میں کامیاب بھی رہی ہوں ″۔ ایمان فاطمہ کہتی ہیں″ ہم تمام لڑکیاں ایشیا کپ کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں اور میں موقع ملنے کی منتظر ہوں کہ اگر مجھے موقع ملتا ہے تو میری کوشش ہوگی کہ جو میرا کھیل ہے اس کے ذریعے اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروں ″۔
ایمان فاطمہ کا تعلق سرگردھا سے ہے لیکن پھر ان کی فیملی لاہور منتقل ہوگئی۔
اس بارے میں ایمان فاطمہ کا کہنا ہے ″ میرے والد کو بہت شوق تھا کہ میں کرکٹ کھیلوں اور پاکستانی ٹیم تک آؤں۔ میں سرگودھا ٹیپ بال سے لڑکوں کےساتھ بھی کھیلا کرتی تھی اور اسوقت بھی میں ہٹنگ کیا کرتی تھی ۔ میرے اس شوق میں اسوقت اضافہ ہوا جب میں نے پاکستانی ویمنز ٹیم کی لڑکیوں کو کھیلتے دیکھا ۔میرے اسی شوق کی وجہ سے میری فیملی لاہور آگئی۔میری فیملی کو بھی چونکہ کرکٹ کا بہت شوق تھا اسی لیے سب میرا حوصلہ بڑھاتے رہے ہیں″۔
 ایمان فاطمہ بتاتی ہیں″ میں نے لاہور میں عبدالقادر کرکٹ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔آج بھی جب میں اکیڈمی میں کھیلنے آتی ہوں تو میری والدہ میرے ساتھ ہوتی ہیں۔اکیڈمی میں سر احمد نے میری بہت حوصلہ افزائی کی ہے″ ۔ ایمان فاطمہ پہلے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ اس بارےمیں وہ کہتی ہیں″ وہ تجربہ میرے لیے بہت اچھا رہا میں نے وہاں اچھی پرفارمنس بھی دی اور میچ بھی جتوائے ″۔
ایمان فاطمہ کہتی ہیں ″ ایمازون کے نمائشی میچز کھیل کر بھی مجھے کافی کچھ
سیکھنے کو موقع ملا خاص کر ڈینی وائٹ کے ساتھ بیٹنگ کرنے کا تجربہ بہت مفید رہا۔وہ بہت سینئر کرکٹر ہیں۔ میں ان کے ساتھ کھیلنے پر فخر محسوس کررہی تھی اس کے علاوہ ڈگ آؤٹ میں دیگر غیرملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک دوسرے کے خیالات جاننے کا بھی موقع ملا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں